27 ستمبر 2011 - 20:30

ونزویلا کے صدر ہوگو چاوز نے لیبیا میں تنازعہ کے بہانے استعماری جنگوں کے نئے دور کے بارے میں خبردار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں ہوگو چاوز کے پڑھے جانے والے خط میں آیا ہے کہ استعماری جنگوں کا نیا دور شروع ہو چکا ہے کہ جس کا مذموم مقصد استعماری ملکوں کی دولت میں اضافہ کرنا ہے۔

ابنا: لیبیا کے بحران میں نیٹو کی فوجی مداخلت کے زمانے سے اکثر سیاسی مبصرین نے اس بات پر زور دیا ہے کہ لیبیا کی جنگ اور اس کا مستقبل اس کے تیل سے وابستہ ہے۔ شمالی افریقہ اور مشرق وسطی میں عوامی تحریکوں کے شروع ہونے کے بعد مغربی طاقتوں کی زیادہ توجہ لیبیا کے حالات پر مرکوز رہی ہے۔ بلاشبہ اگر لیبیا کی سرزمین میں تیل کے ذخائر نہ ہوتے تو اٹلی جرمنی برطانیہ اور فرانس جیسے نیٹو کے ارکان لیبیا میں کبھی بھی فوجی مداخلت نہ کرتے۔ شمالی افریقہ میں واقع لیبیا کے پاس چوالیس ارب تیس کروڑ بیرل تیل کے ذخائر ہیں اور وہ اس براعظم میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر رکھنے والا ملک ہے۔ گزشتہ سال دسمبر میں لیبیا کی تیل کی روزانہ پیداوار سولہ لاکھ بیرل تھی اور وہ نائیجیریا اور انگولا کے بعد افریقہ کا تیل پیدا کرنے والا تیسرا بڑا ملک تھا۔

لیبیا کے بہترین تیل کے ذخائر کی وجہ سے نیٹو کے رہنما اس ملک کے انقلابیوں کی حمایت کے دعوے کے ساتھ قذافی کے ساتھ جنگ کے میدان میں کود پڑے۔ تیل کے علاوہ لیبیا کے پاس ایک اور عظیم دولت ہے۔ انیس سو ساٹھ کی دہائی میں لیبیا کے جنوبی صحرا میں پانی کے عظیم ذخائر دریافت ہوئے تھے اور جیسا کہ کہا جا رہا ہے کہ آئندہ برسوں میں جنگيں پانی کے مسئلے پر ہوں گی، معمر قذافی نے اس پانی کی لیبیا کے جنوب سے شمالی علاقوں تک منتقلی کے تقریبا دو ارب ڈالر مالیت کے منصوبے کے اختتام پر اسے امریکہ کو دندان شکن جواب قرار دیا تھا کہ جو لیبیا پر دہشت گردی کا الزام لگاتا ہے۔بعض مبصرین کا خیال ہے کہ گيارہ ستمبر دو ہزار ایک کے واقعات نے امریکی حکمرانوں کو یہ موقع فراہم کر دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے بہانے عرب اور اسلامی ملکوں پر چڑھ دوڑیں۔لیبیا میں عوامی تحریک معمر قذافی کی آمرانہ حکومت کے خاتمے کے لیے ہے اور عوام نے کئی بار اپنے مظاہروں کے دوران اپنے ملک سے غیر ملکی طاقتوں کے انخلا کا مطالبہ کیا ہے۔ اس کے باوجود امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے قذافی اور اس کے کرائے کے فوجیوں کے ساتھ جنگ میں انقلابیوں کی مدد کی آڑ میں لیبیا میں فوجی مداخلت شروع کر دی۔ دوسروں ملکوں پر قبضے اور براعظم افریقہ کے عوام کی قومی دولت لوٹنے کے لیے سابق استعماری طاقتوں کے مقاصد بالکل واضح تھے لیکن اس وقت نئی استعماری طاقتیں عوام کی مدد کی آڑ میں اپنے مقاصد کے حصول کا راستہ ہموار کر رہی ہیں۔ امریکہ اور برطانیہ جیسے نئے استعماری ملک، جمہوریت کے قیام کے دعوے سے میدان میں کود پڑتے ہیں۔ اس وقت ملٹی نیشنل کمپنیاں استعماری طاقتوں کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔ جیسا کہ فرانس کی ٹوٹل کمپنی وہ پہلی غیرملکی کمپنی تھی کہ جس نے لیبیا کی سابق حکومت کے خاتمے کے بعد پچیس ستمبر سے لیبیا میں اپنی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔............ /169